Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ بَرِيرَةَ، جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ـ رضى الله عنها ـ فَقَالَتْ لَهَا إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً فَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ. فَذَكَرَتْ بَرِيرَةُ ذَلِكَ لأَهْلِهَا، فَقَالُوا لاَ. إِلاَّ أَنْ يَكُونَ وَلاَؤُكِ لَنَا. قَالَ مَالِكٌ قَالَ يَحْيَى فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
English Translation
Narrated to us by Abdullah bin Yusuf, Malik informed us from Yahya bin Sa'id, from Amrah bint Abdur-Rahman, that Hadrat Barirah (may Allah be well pleased with her) came to Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha Siddiqah (may Allah be well pleased with her) seeking help. Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) said to her, 'If your masters agree that I pay your full price at once and set you free, I shall do so.' Barirah (may Allah be well pleased with her) mentioned this to her masters but they said, 'No, unless the wala (patronage) remains ours.' Malik stated that Yahya narrated that Amrah reported that Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) mentioned this to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and he (blessings and peace of Allah be upon him) declared, 'Buy her and set her free, for the wala belongs only to the one who sets free.'
Urdu Translation
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، ہم کو مالک نے خبر دی، یحییٰ بن سعید سے، عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس مدد مانگنے آئیں۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان سے فرمایا کہ اگر تمہارے مالک چاہیں کہ میں تمہاری پوری قیمت ایک ہی مرتبہ ادا کر دوں اور تمہیں آزاد کر دوں تو ایسا کروں گی۔ بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے مالکوں سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا نہیں، الّا یہ کہ ولاء ہماری ہو۔ مالک نے فرمایا کہ یحییٰ نے بیان کیا کہ عمرہ نے بتایا کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خرید لو اور آزاد کر دو، کیونکہ ولاء صرف آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔
