Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ، هُوَ عَلَيْهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ" فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً} الآيَةَ. فَجَاءَ الأَشْعَثُ فَقَالَ مَا حَدَّثَكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي فَقَالَ لِي " شُهُودَكَ ". قُلْتُ مَا لِي شُهُودٌ. قَالَ " فَيَمِينَهُ ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا يَحْلِفَ. فَذَكَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هَذَا الْحَدِيثَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ذَلِكَ تَصْدِيقًا لَهُ.
English Translation
It is narrated from Hadrat Abdullah bin Mas'ud (may Allah be well pleased with him) that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Whoever takes a false oath to unjustly seize a Muslim's property will meet Allah while He is angry with him.' Then Allah the Exalted revealed: 'Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant and their oaths...' (3:77). Then Hadrat Ash'ath (may Allah be well pleased with him) came and said: 'What has Abu Abdur-Rahman told you? This verse was revealed concerning me. I had a well in the land of my cousin. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) asked me to bring my witnesses. I submitted: I have no witnesses. He stated: Then let him take an oath. I submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), he will swear (falsely) immediately.' Thereupon the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) mentioned this hadith, and Allah revealed the verse confirming his statement.
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے جھوٹی قسم کھائی تاکہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر لے، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيْلًا﴾ (جو لوگ اللہ کا عہد اور اپنی قسمیں تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں)۔ پھر حضرت اشعث رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: ابو عبدالرحمٰن نے تمہیں کیا بتایا؟ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ میری ایک زمین میں ایک کنواں تھا جو میرے چچا زاد کی زمین میں واقع تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تمہارے گواہ کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا: میرے پاس گواہ نہیں ہیں۔ ارشاد فرمایا: تو پھر اس کی قسم لو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو (جھوٹی) قسم کھا لے گا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ حدیث بیان فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی۔
