Arabic (Original)
حَدَّثنا محمد بن مَعْمَر حَدَّثنا روح بن أسلم حَدَّثنا حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثابتٍ عَن أَنَس عَن النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم قَالَ يُؤْتَى بِأَنْعَمِ النَّاسِ كَانَ فِي الدُّنْيَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ اصْبُغُوهُ صِبْغَةً فِي النَّارِ ثُمَّ يُؤْتَى بِهِ فَيَقُولُ يَابْنَ آدَمَ هَلْ أَصَبْتَ نَعِيمًا قَطُّ فَيَقُولُ لا وَعِزَّتِكَ مَا رَأَيْتُ خَيْرًا قَطُّ ولاَ سُرُورًا قَطُّ ولاَ قُرَّةَ عَيْنٍ قَطُّ قَالَ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ كَانَ بَلاءً وَضُرًّا وَجَهْدًا فَيَقُولُ اصْبُغُوهُ صِبْغَةً فِي الْجَنَّةِ فَيُصْبَغُ فِيهَا ثُمَّ يُؤْتَى بِهِ فَيَقُولُ يَابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ أَوْ شَيْئًا تَكْرَهُهُ فَيَقُولُ لا وَعِزَّتِكَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَكْرَهُهُوَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنْ ثابتٍ إلاَّ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم قَالَ يُؤْتَى بِأَنْعَمِ النَّاسِ كَانَ فِي الدُّنْيَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ اصْبُغُوهُ صِبْغَةً فِي النَّارِ ثُمَّ يُؤْتَى بِهِ فَيَقُولُ يَابْنَ آدَمَ هَلْ أَصَبْتَ نَعِيمًا قَطُّ فَيَقُولُ لا وَعِزَّتِكَ مَا رَأَيْتُ خَيْرًا قَطُّ ولاَ سُرُورًا قَطُّ ولاَ قُرَّةَ عَيْنٍ قَطُّ قَالَ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ كَانَ بَلاءً وَضُرًّا وَجَهْدًا فَيَقُولُ اصْبُغُوهُ صِبْغَةً فِي الْجَنَّةِ فَيُصْبَغُ فِيهَا ثُمَّ يُؤْتَى بِهِ فَيَقُولُ يَابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ أَوْ شَيْئًا تَكْرَهُهُ فَيَقُولُ لا وَعِزَّتِكَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَكْرَهُهُوَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنْ ثابتٍ إلاَّ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ
English Translation
Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) narrated from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) who stated: «The most comfortable of people in this world will be brought on the Day of Resurrection and it will be said: Immerse him in a dip in the Fire. Then he will be brought and it will be said: O son of Adam, have you ever experienced comfort? He will say: No, by Your might, I have never seen any good, nor any joy, nor any delight of the eye.» He said: «And the one who experienced the most hardship, harm and difficulty will be brought and it will be said: Immerse him in a dip in Paradise. So he will be immersed in it, then he will be brought and it will be said: O son of Adam, have you ever seen misery or anything you dislike? He will say: No, by Your might, I have never seen anything I dislike.» This hadith is not known to be narrated from Thabit except by Hammad ibn Salamah.
Urdu Translation
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «قیامت کے دن دنیا میں سب سے زیادہ آرام سے رہنے والے کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا: اسے جہنم میں ایک ڈبکی دو۔ پھر اسے لایا جائے گا اور کہا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی نعمت پائی؟ وہ کہے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم! میں نے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی، نہ کوئی خوشی، نہ آنکھ کی ٹھنڈک۔» آپ نے فرمایا: «اور سب سے زیادہ آزمائش، تکلیف اور مشقت میں رہنے والے کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا: اسے جنت میں ایک ڈبکی دو، پھر اسے اس میں ڈبویا جائے گا، پھر اسے لایا جائے گا اور کہا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی بدحالی یا ناپسندیدہ چیز دیکھی؟ وہ کہے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم! میں نے کبھی کوئی ناپسندیدہ چیز نہیں دیکھی۔» یہ حدیث ثابت سے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی سے معلوم نہیں۔
