Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ثنا الْجُلَاحُ أَبُو كَثِيرٍ أَنَّ ابْنَ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ﷺ يَوْمًا فَجَاءَهُ صَيَّادٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنَا نَنْطَلِقُ فِي الْبَحْرِ نُرِيدُ الصَّيْدَ فَيَحْمِلُ مَعَهُ أَحَدُنَا الْإِدَاوَةَ وَهُوَ يَرْجُو أَنْ يَأْخُذَ الصَّيْدَ قَرِيبًا فَرُبَّمَا وَجَدَهُ كَذَلِكَ وَرُبَّمَا لَمْ يَجِدِ الصَّيْدَ حَتَّى يَبْلُغَ مِنَ الْبَحْرِ مَكَانًا لَمْ يَظُنَّ أَنْ يَبْلُغَهُ فَلَعَلَّهُ يَحْتَلِمُ أَوْ يَتَوَضَّأُ فَإِنِ اغْتَسَلَ أَوْ تَوَضَّأَ بِهَذَا الْمَاءِ فَلَعَلَّ أَحَدُنَا يُهْلِكُهُ الْعَطَشُ فَهَلْ تَرَى فِي مَاءِ الْبَحْرِ أَنْ نَغْتَسِلَ بِهِ أَوْ نَتَوَضَّأَ بِهِ إِذَا خِفْنَا ذَلِكَ؟ فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ اغْتَسِلُوا مِنْهُ وَتَوَضَّئُوا بِهِ فَإِنَّهُ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ وَقَدْ تَابَعَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ وَيَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ سَعِيدًا عَلَى رِوَايَتِهِ إِلَّا أَنَّهُ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فَرُوِيَ عَنْهُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ وَرُوِيَ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ وَرُوِيَ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْكِنْدِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ وَعَنْهُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِ وَقِيلَ غَيْرُ هَذَا وَاخْتَلَفُوا أَيْضًا فِي اسْمِ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ فَقِيلَ كَمَا قَالَ مَالِكٌ وَقِيلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيُّ وَقِيلَ سَلَمَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ الَّذِي أَرَادَ الشَّافِعِيُّ بِقَوْلِهِ فِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَا أَعْرِفُهُ أَوِ الْمُغِيرَةُ أَوْ هُمَا إِلَّا أَنَّ الَّذِي أَقَامَ إِسْنَادَهُ ثِقَةٌ أَوْدَعَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ الْمُوَطَّأَ وَأَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ وَقَدْ رُوِيَ الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ؓ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ
English Translation
We were with the Messenger of Allah (peace be upon him) one day when a fisherman came and said: 'O Messenger of Allah, tell us — we go out to sea seeking to catch fish, and one of us carries a water-skin hoping to find the catch nearby. Sometimes he does, and sometimes he does not find it until he reaches a place in the sea he never expected to reach. He may then have a wet dream or need to perform ablution. If he bathes or performs ablution with this (fresh) water, he may perish of thirst. Do you see any issue with using seawater for bathing or ablution when we fear that?' The Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'Bathe with it and perform ablution with it, for its water is purifying and its dead creatures are lawful.'
Urdu Translation
ہمیں ابو عبداللہ حافظ نے بیان کیا، انہیں علی بن حمشاذ عدل نے بیان کیا، انہیں عُبید بن عبدالواحد بن شریک نے بیان کیا، انہیں یحییٰ بن بُکیر نے بیان کیا، کہا: مجھ سے لیث نے بیان کیا یزید بن ابی حبیب سے، انہیں جُلاح ابو کثیر نے بیان کیا کہ ابنِ سلمہ مخزومی نے انہیں بیان کیا کہ مغیرہ بن ابی بُردہ نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا: ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک ماہی گیر آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سمندر میں مچھلی کے شکار کے لیے جاتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک ایک مشکیزہ پانی ساتھ لے جاتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ جلد شکار مل جائے گا، کبھی ایسا ہوتا ہے اور کبھی شکار نہیں ملتا یہاں تک کہ سمندر میں وہ جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں پہنچنے کا خیال نہ تھا، پھر ممکن ہے کہ اسے احتلام ہو جائے یا وضو کرنا پڑے، اگر وہ اس (میٹھے) پانی سے غسل یا وضو کرے تو شاید پیاس کی وجہ سے ہلاک ہو جائے، تو کیا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سمندر کے پانی سے غسل یا وضو کرنے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جب ہمیں یہ خطرہ ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس سے غسل کرو اور اس سے وضو کرو کیونکہ وہ پاک کرنے والا ہے، اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مُردار حلال ہے۔ اور یحییٰ بن سعید انصاری اور یزید بن محمد قرشی نے سعید کی متابعت کی اس روایت میں، البتہ یحییٰ بن سعید سے اس میں اختلاف ہوا۔
