Arabic (Original)
9/11 -(صحيح الإسناد.)عن أبى بردة؛ أَنَّهُ شَهِدَ ابْنَ عُمَرَ، ورجلٌ يمانيٌ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ - حَمَلَ أُمَّهُ وراء ظهره - يقول: إِنِّي لَهَا بَعِيرُهَا الْمُذَلَّلُ...... إِنْ أُذْعِرَتْ رِكَابُهَا(1)لَمْ أُذْعَرِ ثُمَّ قَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ! أَتُرَانِي جَزَيْتُهَا؟ قَالَ: لَا. وَلَا بِزَفْرَةٍ واحدة(2)، واحدة ثم طَافَ ابْنُ عُمَرَ، فَأَتَى الْمَقَامَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. ثُمَّ قَالَ: يَا ابْنَ أَبِي مُوسَى! إِنَّ كُلَّ ركعتين تكفران ما أمامهما.
English Translation
Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace be upon him, said: 'The Lord, Blessed and Most High, is pleased when the parent is pleased, and He is angry when the parent is angry.'
Urdu Translation
ابوبردہ سے مروی ہے کہ وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے اور ایک یمنی آدمی بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا اس نے اپنی ماں کو اپنی پشت کے پیچھے اٹھایا ہوا تھا، (اور) یہ کہہ رہا تھا: میں اس کا مطیع اونٹ ہوں اگر اس کی سواریاں خوفزدہ کر دی جائیں تو میں خوفزدہ نہیں کیا جاؤں گا۔ پھر اس آدمی نے کہا: اے ابن عمر! کیا تمہارا خیال ہے کہ میں نے اپنی ماں کا بدلہ چکا دیا ہے؟ کہا: نہیں، اس کی ایک آہ کا بدلہ بھی نہ چکایا۔ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے طواف کیا، تو وہ مقام ابرہیم کے پاس آئے دو رکعتیں پڑھیں پھر کہا: اے ابوموسیٰ کے بیٹے! ہر دو رکعتیں ان گناہوں کو ساکت کر دیتی ہیں جو پہلے کیے گئے۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 9]
