Arabic (Original)
572/740 عن أبي هريرة: أن رجلاً أتى النبي صلى الله عليه وسلم، فبعث إلى نساءه فقلن: ما معنا إلا الماء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"من يضم - أو يضيف - هذا؟". فقال رجل من الأنصار(1): أنا، فانطلق به إلى امرأته، فقال: أكرمي ضيف رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: ما عندنا إلا قوت للصبيان، فقال: هيئي طعامك، وأصلحي(2)سراجك، ونومي صبيانك إذا أرادوا عشاء، فهيأت طعامها، وأصلحت سراجها، ونومت صبيانها، ثم قامت كأنها تصلح سراجها فأطفأته، وجعلا يريانه أنهما يأكلان، وباتا طاوين، فلما أصبح غدا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال صلى الله عليه وسلم:" لقد ضحك الله - أو: عجب - من فعالكما؟". وأنزل الله? ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة ومن يوق شح نفسه فأولئك هم المفلحون?[الحشر: 9].
English Translation
Abu Hurayrah reported: A man came to the Prophet (peace be upon him), and he sent to his wives, but they said: We have nothing but water. The Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'Who will host this man?' A man from the Ansar said: I will. He took him to his wife and said: Honor the guest of the Messenger of Allah. She said: We have nothing except the children's food. He said: Prepare the food, fix the lamp, and put the children to sleep when they want supper. She prepared the food, fixed the lamp, put the children to sleep, then got up as if to fix the lamp and extinguished it. They made the guest think they were eating, while they spent the night hungry. In the morning, he went to the Messenger of Allah (peace be upon him), who said: 'Allah laughed — or marveled — at what you two did.' And Allah revealed: 'And they prefer others over themselves, even though they are in need. And whoever is protected from the stinginess of his soul — those are the successful.' [Al-Hashr: 9]
Urdu Translation
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں ایک شخص آیا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی ازواج مطہرات سے معلوم کرایا۔ سب نے جواب دیا کہ پانی کے سوا اپنے پاس کچھ نہیں، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس مہمان کو کون لے کر جائے گا، یا کون اس کی ضیا فت کر ے گا۔“انصار میں سے ایک شخص نے کہا: میں، وہ اسے اپنی بیوی کے پاس لے گیا۔ اس سے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے مہمان کی تکریم کرو۔ اس نے کہا کہ ہمارے پاس تو بچوں کے کھانے کے سوا کچھ نہیں، کہا کہ کھانا تیار کرو، اور چراغ کی لو ٹھیک کر دو۔ بچوں کو سلا دو جب وہ رات کا کھانا مانگیں۔ بیوی نے کھانا تیار کیا، چراغ کی لو کو ٹھیک کر دیا، بچوں کو سلا دیا۔ پھر وہ اٹھیں اور ایسے کے گویا چراغ کو درست کر رہی ہیں تو اس کو بجھا دیا اور مہمان کو ایسے محسوس کرایا کہ یہ دونوں (میاں بیوی) بھی کھانا کھا رہے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ رات کو بھوکے سوئے۔ جب صبح ہوئی، وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں آئے تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے (انہیں دیکھتے ہی) فرمایا:”اللہ تمہاری اس کار گزاری پر مسکرایا ہے یا خوش ہوا ہے۔“اسی پر یہ آیت اللہ نے نازل فرمائی:«ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة ومن يوق شح نفسه فأولئك هم المفلحون»[صحيح الادب المفرد/حدیث: 572]
