Arabic (Original)
410/525 عن عائشة؛ أنها قالت: لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وعكَ أبو بكر وبلال. قالت: فدخلت عليهما. قلت: يا أبتاه! كيف تجدك؟ ويا بلال! كيف تجدك؟ قال: وكان أبو بكر إذا أخذته الحمى يقول: كل امرئ مصبح في أهله……والموت أدنى من شراك نعله. وكان بلال إذا أقلع عنه، يرفع عقيرته(1)فيقول: ألا ليت شعري هل أبيتن ليلة……بواد وحولي إذخر وجليل(2)وهل أردن يوماً مياه مجنة(3)……وهل يبدون لي شامة وطفيل(4). قالت عائشة رضي الله عنها: فجئت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته، فقال:" اللهم حبب إلينا المدينة، كحبنا مكة أو أشد، وصححها، وبارك لنا في صاعها ومدها، وانقل حماها فاجعلها بالجحفة"(5).
English Translation
Aishah reported: When the Messenger of Allah, peace be upon him, arrived in Madinah, Abu Bakr and Bilal fell ill. She said, 'I entered upon them and said: O father, how do you feel? O Bilal, how do you feel?' Abu Bakr, when fever seized him, would say poetry about every man being among his family in the morning while death is closer than the strap of his sandal. And Bilal, when the fever left him, would raise his voice and recite poetry longing for the valleys of Makkah, its idhkhir and jalil grasses, and wondering if he would ever again drink from the waters of Majannah or see the mountains of Shamah and Tufayl. Aishah said, 'I came to the Messenger of Allah, peace be upon him, and told him about this.' He said, 'O Allah, make Madinah as beloved to us as Makkah or even more so. Make it healthy, bless its sa' and mudd for us, and transfer its fever to al-Juhfah.'
Urdu Translation
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممدینہ تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ کہتی ہیں: میں ان کے پاس گئی۔ میں نے کہا: اے ابا جان! آپ کا کیا حال ہے؟ اور اے بلال! آپ کا کیا حال ہے؟ کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب بخار آتا تھا تو کہتے تھے: ہر آدمی اپنے اہل و عیال میں صبح کرتا ہے اور موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی قریب تر ہے اور بلال رضی اللہ عنہ سے جب بخار اتر جاتا تو اپنی آواز بلند کرتے اور کہتے: اے کاش! یہ ہوتا کہ میں ایک ایسی وادی میں رات گزارتا جہاں میرے گرد اذخر اور جلیل کی جھاڑیاں ہوتیں اور کیا وہ کسی دن مجنہ کے چشموں کا ارادہ کریں گی اور کبھی ایسا بھی ہو گا کہ میرے لیے شامہ و طفیل پہاڑیاں ظاہر ہوں گی (یہ سب مکہ کی جگہیں یاد کر رہے ہیں)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئی اور انہیں اس حال کی خبر دی تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے کہا:«اللهم حبب إلينا المدينة، كحبنا مكة أو أشد، وصححها، وبارك لنا فى صاعها ومدها، وانقل حماها فاجعلها بالجحفة»”اے اللہ! ہمارے لیے مدینہ کو مکہ کی طرح یا اس سے بھی زیادہ محبوب بنا دے اور اس کو صحت بخش بنا دے اور ہمارے لیے اس کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما اور اس کے بخار کو وادی جحفہ میں بھیج دے۔“[صحيح الادب المفرد/حدیث: 410]
