Arabic (Original)
398/513 عن إبراهيم بن أبي عبلة قال: مرضت امرأتي، فكنت أجيء إلى أم الدرداء. فتقول لي: كيف أهلك؟ فأقول لها: مرضى، فتدعو لي بطعام، فآكل. ثم عدت. ففعلت ذلك، فجئتها مرة، فقالت: كيف؟ قلت: قد تماثلوا(1)، فقالت:"إنما كنت أدعو لك بطعام أن كنت تخبرنا عن أهلك أنهم مرضى، فأما أن تماثلوا؛ فلا ندعوا لك بشيء".
English Translation
Ibrahim ibn Abi 'Ablah reported: My wife fell ill, and I used to visit Umm al-Darda'. She would ask me, 'How is your wife?' I would say, 'She is ill.' She would then offer me food, and I would eat. This happened again. Then I came to her once, and she said, 'How is she?' I said, 'She is recovering.' She said, 'I used to offer you food because you told us your wife was ill. Now that she is recovering, we will not offer you anything.'
Urdu Translation
ابراہیم بن ابی عبلہ بیان کرتے ہیں کہ میری بیوی بیمار پڑ گئی، میں (اس زمانے میں) امِ درداء کے پاس جایا کرتا تھا (جب میں جاتا) تو وہ مجھ سے کہتیں: آپ کی بیوی کا کیا حال ہے؟ میں ان سے کہتا: بیمار ہے، پھر وہ میرے لیے کھانا منگواتیں اور میں کھانا کھاتا۔ پھر میں دوبارہ گیا انہوں نے دوبارہ ایسا کیا (مجھے کھانا دیا)۔ پھر ایک بار میں ان کے پاس آیا تو وہ بولیں: آپ کی بیوی کا کیا حال ہے؟ میں نے کہا: صحت کی طرف مائل ہو رہی ہے، انہوں نے کہا: جب تم ہمیں کہتے تھے کہ تمہاری بیوی بیمار ہے تو میں تمہارے لیے کھانا منگواتی تھی لیکن جب وہ ٹھیک ہو رہی ہے تو اب ہم آپ کے لیے کچھ نہیں منگوائیں گے۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 398]
