Arabic (Original)
297/385(صحيح)عن حميد بن عبد الرحمن، أن أمّه- أم كلثوم ابنة عقبة بن أبي معيط- أخبرته أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:" ليس الكذاب الذي يصلح بين الناس، فيقول خيراً، أو ينمي خيراً". قالت: ولم أسمعه يرخص في شيء مما يقول الناس من الكذب إلا في ثلاث: الإصلاح بين الناس، وحديث الرجل مع امرأته، وحديث المرأة زوجها.
English Translation
Humayd ibn Abd al-Rahman reported that his mother — Umm Kulthum bint Uqbah ibn Abi Mu'ayt — informed him that she heard the Messenger of Allah, peace be upon him, say, 'The one who reconciles between people and says good things or conveys good things is not a liar.' She said, 'I did not hear him permit anything of what people say as lies except in three cases: reconciling between people, a man speaking to his wife, and a woman speaking to her husband.'
Urdu Translation
حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ان کی والدہ ام کلثوم جو عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی ہیں بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے ہوئے سنا: وہ شخص کذاب نہیں ہے جو لوگوں میں صلح کرائے، تو (صلح کے لیے) وہ اچھی بات کرے یا اچھی بات پہنچائے، کہتی ہیں: میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو تین مواقع کے علاوہ لوگوں کو جھوٹ بولنے کی رخصت دیتے ہوئے نہیں سنا:”لوگوں میں صلح کرانے کے لیے، آدمی کا اپنی بیوی سے بات کرنا، اور عورت کا اپنے خاوند سے بات کرنا۔ (یعنی اگر کوئی غلط فہمی پیدا ہو جائے تو صلح کے لیے کوئی ایسی بات کی جا سکتی ہے جس کا ظاہری معنی اور باطنی معنی فرق ہو، خالص جھوٹ پھر بھی نہیں بولنا چاہیے۔)“[صحيح الادب المفرد/حدیث: 297]
