Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْخَزْرَجُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْخَطَّابِ السَّعْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: جَاءَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَشِيَّةَ الْخَمِيسِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ: أُحَرِّجُ عَلَى كُلِّ قَاطِعِ رَحِمٍ لَمَا قَامَ مِنْ عِنْدِنَا، فَلَمْ يَقُمْ أَحَدٌ حَتَّى قَالَ ثَلاَثًا، فَأَتَى فَتًى عَمَّةً لَهُ قَدْ صَرَمَهَا مُنْذُ سَنَتَيْنِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، قَالَتِ: ارْجِعْ إِلَيْهِ فَسَلْهُ: لِمَ قَالَ ذَاكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: إِنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ تُعْرَضُ عَلَى اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَشِيَّةَ كُلِّ خَمِيسٍ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَلاَ يَقْبَلُ عَمَلَ قَاطِعِ رَحِمٍ.
English Translation
Hadrat Abu Ayyub Sulayman, the mawla of Hadrat 'Uthman ibn 'Affan, said, "Hadrat Abu Hurayra came to us on a Thursday evening, the night before Jumu'a. He said, 'Every individual who severs ties of kinship is constricted when he leaves us. No one left until he had said that three times. Then a young man went to one of his paternal aunts with whom he had severed ties two years previously. He went to her and she asked him, 'Nephew! What has brought you?' He replied, 'I heard Hadrat Abu Hurayra say such-and-such.' She said, 'Go back to him and ask him why he said that.' Hadrat Abu Hurayra said, 'I heard the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) say, "The actions of the children of Adam (upon him be peace) are presented before Allah Almighty on Thursday evening, the night before Jumu'a. He does not accept the actions of someone who has severed ties of kinship."'"
Urdu Translation
حضرت ابو ایوب سلیمان، جو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، فرماتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعرات کی شام ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ہر قطع رحمی کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ ہماری محفل سے نکل جائے۔ کوئی نہ اٹھا یہاں تک کہ تین بار فرمایا۔ پھر ایک نوجوان اپنی پھوپھی کے پاس گیا جن سے اس نے دو یا تین سال سے بات نہیں کی تھی۔ وہ ان کے پاس گیا۔ انہوں نے پوچھا: بیٹا! کیسے آئے؟ اس نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا۔ انہوں نے کہا: واپس جاؤ اور ان سے اس کی وجہ پوچھو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی قوم پر نازل نہیں ہوتی جس میں قطع رحمی کرنے والا ہو۔
