Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَ الرَّبِيعُ يَأْتِي عَلْقَمَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَإِذَا لَمْ أَكُنْ ثَمَّةَ أَرْسَلُوا إِلَيَّ، فَجَاءَ مَرَّةً وَلَسْتُ ثَمَّةَ، فَلَقِيَنِي عَلْقَمَةُ وَقَالَ لِي: أَلَمْ تَرَ مَا جَاءَ بِهِ الرَّبِيعُ؟ قَالَ: أَلَمْ تَرَ أَكْثَرَ مَا يَدْعُو النَّاسَ، وَمَا أَقَلَّ إِجَابَتَهُمْ؟ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لاَ يَقْبَلُ إِلاَّ النَّاخِلَةَ مِنَ الدُّعَاءِ، قُلْتُ: أَوَ لَيْسَ قَدْ قَالَ ذَلِكَ عَبْدُ اللهِ؟ قَالَ: وَمَا قَالَ؟ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: لاَ يَسْمَعُ اللَّهُ مِنْ مُسْمِعٍ، وَلاَ مُرَاءٍ، وَلا لاعِبٍ، إِلا دَاعٍ دَعَا يَثْبُتُ مِنْ قَلْبِهِ، قَالَ: فَذَكَرَ عَلْقَمَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
English Translation
'Abdu'r-Rahman ibn Yazid said, "Ar-Rabi' used to go to 'Alqama every Friday. When I was not there, they would send for me. Once he came when I was not there. 'Alqama met me and told me, 'Did you not see what ar-Rabi' brought? He said, "Do you not see how frequently people make supplication and how rarely they are answered? That is because Allah Almighty only accepts the sincere supplication."' I asked, 'Didn't Hadrat 'Abdullah say that?' He asked, 'What did he say?' I said that Hadrat 'Abdullah said, 'Allah does not listen to someone who wants other people to hear not someone who shows off nor who plays. He only listens to the one who makes a supplication firmly from his heart.' He said, 'Did he mention 'Alqama?' 'Yes' was the answer."
Urdu Translation
حضرت عبدالرحمٰن بن یزید فرماتے ہیں: 'حضرت ربیع ہر جمعہ حضرت علقمہ کے پاس آتے تھے۔ جب میں نہ ہوتا تو وہ مجھے بلا بھیجتے۔ ایک بار وہ آئے جب میں نہ تھا۔ حضرت علقمہ مجھے ملے اور بتایا: کیا تم نے نہیں دیکھا ربیع کیا لائے؟ انہوں نے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں لوگ کتنی دعائیں مانگتے ہیں اور کتنی کم قبول ہوتی ہیں؟ یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف مخلصانہ دعا قبول فرماتا ہے۔ میں نے پوچھا: کیا عبداللہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے یہ نہیں فرمایا تھا؟ پوچھا: انہوں نے کیا فرمایا؟ میں نے کہا: عبداللہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی نہیں سنتا جو لوگوں کو سنانا چاہے نہ ریاکار کی نہ کھیلنے والے کی۔ وہ صرف اس کی سنتا ہے جو دل کی گہرائی سے مخلصانہ دعا کرے۔'
