Arabic (Original)
حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَتِ الْحُمَّى إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتِ: ابْعَثْنِي إِلَى آثَرِ أَهْلِكَ عِنْدَكَ، فَبَعَثَهَا إِلَى الأَنْصَارِ، فَبَقِيَتْ عَلَيْهِمْ سِتَّةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَأَتَاهُمْ فِي دِيَارِهِمْ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ دَارًا دَارًا، وَبَيْتًا بَيْتًا، يَدْعُو لَهُمْ بِالْعَافِيَةِ، فَلَمَّا رَجَعَ تَبِعَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْهُمْ فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لِمَنَ الأَنْصَارِ، وَإِنَّ أَبِي لِمَنَ الأَنْصَارِ، فَادْعُ اللَّهَ لِي كَمَا دَعَوْتَ لِلأَنْصَارِ، قَالَ: مَا شِئْتِ، إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ، وَإِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ، قَالَتْ: بَلْ أَصْبِرُ، ولا أَجْعَلُ الْجَنَّةَ خَطَرًا.
English Translation
Hadrat Abu Hurayrah said that fever presented itself before the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). It said to him, ’’Send me to those people with whom you have a very deep connection. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sent it to the Ansar. So, fever gripped them for six days and six nights. Their feverish condition became very serious and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) visited them at their homes. Thy complained of fever and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) went to each house and prayed for their health. When he was returning, one of their women followed behind him and said, "By Him who has sent you with the truth, I am of the Ansar and my father is also one of the Ansar. Just as you have prayed for the Ansar, pray for me too." The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sg asked her, "What is it that you wish? If you wish, I will pray to Allah that he grant you health but if you are patient then paradise is for you." She said, "I will endure (fever) patiently and will not risk (my chance of) admission to paradise."
Urdu Translation
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بخار نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا اور عرض کیا: 'مجھے ان لوگوں کے پاس بھیج دیجیے جن سے آپ کا سب سے گہرا تعلق ہے۔' نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے انصار کے پاس بھیج دیا۔ بخار نے انہیں چھ دن اور چھ رات پکڑے رکھا۔ ان کی حالت بہت سنگین ہو گئی اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے گھروں میں ان کی عیادت فرمائی۔ انہوں نے بخار کی شکایت کی اور آپ ہر گھر میں گئے اور ان کی صحت کے لیے دعا فرمائی۔ جب آپ واپس تشریف لا رہے تھے تو ان کی ایک عورت آپ کے پیچھے آئی اور عرض کیا: 'اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! میں انصار میں سے ہوں اور میرے والد بھی انصاری ہیں۔ جیسے آپ نے انصار کے لیے دعا فرمائی ویسے میرے لیے بھی دعا فرمائیں۔' نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: 'تم کیا چاہتی ہو؟ اگر چاہو تو میں اللہ سے دعا کروں کہ تمہیں شفا دے، لیکن اگر صبر کرو تو تمہارے لیے جنت ہے۔' اس نے کہا: 'میں صبر کروں گی اور جنت کا موقع خطرے میں نہیں ڈالوں گی۔'
