Arabic (Original)
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ: جَابِرٌ أَوْ جُوَيْبِرٌ: طَلَبْتُ حَاجَةً إِلَى عُمَرَ فِي خِلاَفَتِهِ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ لَيْلاً، فَغَدَوْتُ عَلَيْهِ، وَقَدْ أُعْطِيتُ فِطْنَةً وَلِسَانًا، أَوْ قَالَ: مِنْطَقًا، فَأَخَذْتُ فِي الدُّنْيَا فَصَغَّرْتُهَا، فَتَرَكْتُهَا لاَ تَسْوَى شَيْئًا، وَإِلَى جَنْبِهِ رَجُلٌ أَبْيَضُ الشَّعْرِ أَبْيَضُ الثِّيَابِ، فَقَالَ لَمَّا فَرَغْتُ: كُلُّ قَوْلِكَ كَانَ مُقَارِبًا، إِلاَّ وَقُوعَكَ فِي الدُّنْيَا، وَهَلْ تَدْرِي مَا الدُّنْيَا؟ إِنَّ الدُّنْيَا فِيهَا بَلاَغُنَا، أَوْ قَالَ: زَادُنَا، إِلَى الْآخِرَةِ، وَفِيهَا أَعْمَالُنَا الَّتِي نُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ، قَالَ: فَأَخَذَ فِي الدُّنْيَا رَجُلٌ هُوَ أَعْلَمُ بِهَا مِنِّي، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي إِلَى جَنْبِكَ؟ قَالَ: سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ.
English Translation
Hadrat Abu Nadra said, "One of our men called Hadrat Jabir or Jubayr said, 'I went to 'Umar while he was Khalif to ask for something which I needed. I reached Madina during the night and went straight to him. I am someone with intelligence and a ready tongue - or he said speech (meaning eloquence). I had looked at this world and thought little of it. I had abandoned it as not being worth anything. At 'Umar's side there was a man with white hair and white clothes. When I had finished speaking, he said, "All that you have said is correct except for your attack on this world. Do you know what this world is? This world is that in which we reach (or he said, 'where our provision is') the Next World. It contains our actions for which we will be rewarded in the Next World." He said, "A man who knows this world better than I do worked in it." I asked, "Amir al-Mu'minin, who is this man at our side?" He replied, 'The master of the Muslims, Hadrat Ubayy ibn Ka'b.'"
Urdu Translation
حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ ہمارے ایک ساتھی جن کا نام حضرت جابر یا جبیر تھا، کہتے ہیں: 'میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا جب وہ خلیفہ تھے تاکہ اپنی ضرورت کے لیے درخواست کروں۔ میں رات کو مدینہ پہنچا اور سیدھا ان کے پاس گیا۔ میں سمجھدار اور زبان آور شخص تھا۔ میں نے دنیا کو دیکھا اور اسے حقیر سمجھا اور بے قدر جانا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں سفید بالوں اور سفید کپڑوں والا ایک شخص بیٹھا تھا۔ جب میں اپنی بات کر چکا تو اس شخص نے کہا: جو تم نے کہا سب درست ہے سوائے دنیا پر تمہارے حملے کے۔ کیا تم جانتے ہو دنیا کیا ہے؟ دنیا وہ ہے جس میں ہم آخرت تک پہنچتے ہیں۔ اس میں ہمارے وہ اعمال ہیں جن کا آخرت میں ہمیں ثواب ملے گا۔ ایک شخص جو مجھ سے زیادہ دنیا کو جانتا تھا اس نے اس میں عمل کیا۔' میں نے پوچھا: 'اے امیر المومنین! یہ شخص کون ہے؟' انہوں نے فرمایا: 'مسلمانوں کے سردار حضرت اُبَیّ بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔'
