Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الأَسَدِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ فَرَأَى قُبَّةً مُشْرِفَةً فَقَالَ " مَا هَذِهِ " . قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ هَذِهِ لِفُلاَنٍ - رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ - . قَالَ فَسَكَتَ وَحَمَلَهَا فِي نَفْسِهِ حَتَّى إِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسَلِّمُ عَلَيْهِ فِي النَّاسِ أَعْرَضَ عَنْهُ صَنَعَ ذَلِكَ مِرَارًا حَتَّى عَرَفَ الرَّجُلُ الْغَضَبَ فِيهِ وَالإِعْرَاضَ عَنْهُ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأُنْكِرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالُوا خَرَجَ فَرَأَى قُبَّتَكَ . قَالَ فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى قُبَّتِهِ فَهَدَمَهَا حَتَّى سَوَّاهَا بِالأَرْضِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَرَهَا قَالَ " مَا فَعَلَتِ الْقُبَّةُ " . قَالُوا شَكَا إِلَيْنَا صَاحِبُهَا إِعْرَاضَكَ عَنْهُ فَأَخْبَرْنَاهُ فَهَدَمَهَا فَقَالَ " أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ إِلاَّ مَا لاَ إِلاَّ مَا لاَ " . يَعْنِي مَا لاَ بُدَّ مِنْهُ .
English Translation
Hadrat Anas ibn Malik (may Allah be well pleased with him) narrates that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) went out and saw a lofty dome. He stated: What is this? His Companions submitted: This belongs to such-and-such man from the Ansar. He remained silent and held it in his mind. When the owner came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) to greet him among the people, he turned away from him. He did this several times until the man recognized his displeasure and turning away. He complained to his companions and said: By Allah, I notice that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) has changed toward me. They said: He went out and saw your dome. So the man went back and demolished his dome, leveling it to the ground. One day the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) went out and did not see it. He stated: What happened to the dome? They submitted: Its owner complained to us about your turning away from him, so we informed him and he demolished it. He stated: Beware! Every building is a burden upon its owner, except what is essential — except what is essential — meaning that which one cannot do without.
Urdu Translation
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم باہر نکلے تو ایک اونچی قبہ (گنبد نما عمارت) دیکھی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: یہ فلاں انصاری شخص کی ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے اور اسے اپنے دل میں رکھا۔ جب اس کا مالک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا اور لوگوں میں سلام عرض کرتا تو آپ اس سے منہ پھیر لیتے۔ آپ نے یہ کئی بار کیا۔ یہاں تک کہ اس شخص نے آپ کی ناراضگی اور اعراض کو سمجھ لیا اور اپنے ساتھیوں سے شکایت کی اور کہا: اللہ کی قسم! مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بدلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لوگوں نے کہا: آپ باہر نکلے تھے تو آپ کی قبہ دیکھی تھی۔ وہ شخص واپس گیا اور اپنی قبہ کو گرا کر زمین کے برابر کر دیا۔ پھر ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم باہر نکلے تو وہ قبہ نہیں دیکھی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ قبہ کیا ہوئی؟ لوگوں نے عرض کیا: اس کے مالک نے ہم سے آپ کے اعراض کی شکایت کی تھی تو ہم نے اسے بتایا تو اس نے اسے گرا دیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار! ہر عمارت اس کے مالک پر وبال ہے سوائے اس کے جو ناگزیر ہو، سوائے اس کے جو ناگزیر ہو۔ یعنی جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔
