Arabic (Original)
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رضى الله عنه ضَرَبَ ابْنًا لَهُ تَكَنَّى أَبَا عِيسَى وَأَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ تَكَنَّى بِأَبِي عِيسَى فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَمَا يَكْفِيكَ أَنْ تُكَنَّى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَنَّانِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ وَإِنَّا فِي جَلْجَلَتِنَا فَلَمْ يَزَلْ يُكْنَى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى هَلَكَ .
English Translation
It is narrated by Hadrat Umar ibn al-Khattab that Hadrat Zayd ibn Aslam quoted his father as saying: Umar ibn al-Khattab (Allah be pleased with him) struck one of his sons who was given the kunyah AbuIsa, and al-Mughirah ibn Shu'bah had the kunyah AbuIsa. Umar said to him: Is it not sufficient for you that you are called by the kunyah AbuAbdullah? He replied: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave me this kunyah. Thereupon he said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was forgiven all his sins, past and those followed. But we are among the people similar to us. Henceforth he was called by the kunyah AbuAbdullah until he died
Urdu Translation
اسلم کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ایک بیٹے کو مارا جس نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ابوعیسیٰ کنیت رکھی تھی، تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم ابوعبداللہ کنیت اختیار کرو؟ ۱؎وہ بولے: میری یہ کنیت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہی رکھی ہے، تو انہوں نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے تو اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے گئے تھے، اور ہم تو اپنی ہی طرح کے چند لوگوں میں سے ایک ہیں ۲؎ چنانچہ وہ ہمیشہ ابوعبداللہ کی کنیت سے پکارے جاتے رہے، یہاں تک کہ انتقال فرما گئے۔
