Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُحَرَّرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ وَقَعَ رَجُلٌ بِأَبِي بَكْرٍ فَآذَاهُ فَصَمَتَ عنه أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ آذَاهُ الثَّانِيَةَ فَصَمَتَ عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ آذَاهُ الثَّالِثَةَ فَانْتَصَرَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ انْتَصَرَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَوَجَدْتَ عَلَىَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَزَلَ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ يُكَذِّبُهُ بِمَا قَالَ لَكَ فَلَمَّا انْتَصَرْتَ وَقَعَ الشَّيْطَانُ فَلَمْ أَكُنْ لأَجْلِسَ إِذْ وَقَعَ الشَّيْطَانُ " .
English Translation
It is narrated by Hadrat Sa'id ibn al-Musayyab that while the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was sitting with some of his companions, a man reviled AbuBakr and insulted him. But AbuBakr remained silent. He insulted him twice, but AbuBakr controlled himself. He insulted him thrice and AbuBakr took revenge on him. Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) got up when AbuBakr took revenge. AbuBakr said: Were you angry with me, Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)? The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) responded: An angel came down from Heaven and he was rejecting what he had said to you. When you took revenge, a devil came down. I was not going to sit when the devil came down
Urdu Translation
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے الجھ پڑا اور آپ کو ایذاء پہنچائی تو آپ اس پر خاموش رہے، اس نے دوسری بار ایذاء دی، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بار بھی چپ رہے پھر اس نے تیسری بار بھی ایذاء دی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے بدلہ لے، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدلہ لینے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھ سے ناراض ہو گئے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا تھا، وہ ان باتوں میں اس کے قول کی تکذیب کر رہا تھا، لیکن جب تم نے بدلہ لے لیا تو شیطان آ پڑا پھر جب شیطان آ پڑا ہو تو میں بیٹھنے والا نہیں ۔
