Arabic (Original)
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، - وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ - قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، - وَذَكَرَ ابْنُ السَّرْحِ قِصَّةَ تَخَلُّفِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ - قَالَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلاَمِنَا أَيُّهَا الثَّلاَثَةُ حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَىَّ تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ . ثُمَّ سَاقَ خَبَرَ تَنْزِيلِ تَوْبَتِهِ .
English Translation
Hadrat 'Abdullah ibn Ka'b narrates — he used to lead his father Hadrat Ka'b ibn Malik (may Allah be well pleased with him) from among his sons when he became blind — he said: I heard Hadrat Ka'b ibn Malik (may Allah be well pleased with him) say — Ibn al-Sarh then narrated the story of his remaining behind from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) during the expedition of Tabuk — the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) forbade the Muslims from speaking to any of us three, until when a long time had passed, I climbed over the wall of Hadrat Abu Qatadah's (may Allah be well pleased with him) garden — he was my cousin — and I greeted him with salaam, but by Allah, he did not return my greeting. He then narrated the story of the revelation of the acceptance of his repentance.
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن کعب سے روایت ہے (جب حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں سے عبداللہ آپ کے رہنما تھے) وہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا — (ابن السرح ان کے غزوۂ تبوک میں نبیِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پیچھے رہ جانے کا واقعہ ذکر کر کے فرماتے ہیں) — رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں سے بات کرنے سے منع فرما دیا، یہاں تک کہ جب طویل عرصہ گزر گیا تو میں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باغ کی دیوار پھاند کر ان کے پاس گیا — وہ میرے چچا زاد بھائی تھے — میں نے انہیں سلام کیا تو قسم اللہ کی! انہوں نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ پھر راوی نے ان کی توبہ قبول ہونے کے نزول کا واقعہ بیان کیا۔
