Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي الْحَذَّاءَ - عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّهُ زَنَى . فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَأَعَادَ عَلَيْهِ مِرَارًا فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَسَأَلَ قَوْمَهُ " أَمَجْنُونٌ هُوَ " . قَالُوا لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ . قَالَ " أَفَعَلْتَ بِهَا " . قَالَ نَعَمْ . فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَانْطُلِقَ بِهِ فَرُجِمَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ .
English Translation
It is narrated by Hadrat Abdullah ibn Abbas that Ma'iz ibn Malik came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and said that he had committed fornication and he (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) turned away from him. He repeated it many times, but he (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) turned away from him. He asked his people: Is he mad? They replied: There is no defect in him. He asked: Have you done it with her? He replied: Yes. so he ordered that he should be stoned to death. He was taken out and stoned to death, and he (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) did not pray over him
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، اور انہوں نے عرض کیا کہ میں نے زنا کر لیا ہے، آپ نے ان سے منہ پھیر لیا، پھر انہوں نے کئی بار یہی بات دہرائی، ہر بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنا منہ پھیر لیتے تھے، پھر آپ نے ان کی قوم کے لوگوں سے پوچھا: کیا یہ دیوانہ تو نہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں ایسی کوئی بات نہیں، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا واقعی تم نے ایسا کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں واقعی، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سنگسار کئے جانے کا حکم دیا، تو انہیں لا کر سنگسار کر دیا گیا، اور آپ نے ان پر جنازہ کی نماز نہیں پڑھی۔
