Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَنُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَغَيَّظَ عَلَى رَجُلٍ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ فَقُلْتُ تَأْذَنُ لِي يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ فَأَذْهَبَتْ كَلِمَتِي غَضَبَهُ فَقَامَ فَدَخَلَ فَأَرْسَلَ إِلَىَّ فَقَالَ مَا الَّذِي قُلْتَ آنِفًا قُلْتُ ائْذَنْ لِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ . قَالَ أَكُنْتَ فَاعِلاً لَوْ أَمَرْتُكَ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا كَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا لَفْظُ يَزِيدَ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ أَىْ لَمْ يَكُنْ لأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقْتُلَ رَجُلاً إِلاَّ بِإِحْدَى الثَّلاَثِ الَّتِي قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُفْرٌ بَعْدَ إِيمَانٍ أَوْ زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرِ نَفْسٍ وَكَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقْتُلَ .
English Translation
It is narrated by Hadrat AbuBakr that AbuBarzah said: I was with AbuBakr. He became angry at a man and uttered hot words. I said: Do you permit me, Caliph of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), that I cut off his neck? These words of mine removed his anger; he stood and went in. He then sent for me and said: What did you say just now? I said: (I had said:) Permit me that I cut off his neck. He said: Would you do it if I ordered you? I said: Yes. He said: No, I swear by Allah, this is not allowed for any man after Muhammad ((blessings and peace of Allah be upon him)). Abu Dawud said: This is Yazid's version. Ahmad bin Hanbal said: That is, Hadrat Abu Bakr has no powers to slay a man except for three reasons which the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had mentioned: disbelief after belief, fornication after marriage, or killing a man without (murdering) any man by him. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had powers to kill
Urdu Translation
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا، وہ ایک شخص پر ناراض ہوئے اور بہت سخت ناراض ہوئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول کے خلیفہ! مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی گردن مار دوں، میری اس بات نے ان کے غصہ کو ٹھنڈا کر دیا، پھر وہ اٹھے اور اندر چلے گئے، پھر مجھ کو بلایا اور پوچھا: ابھی تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: میں نے کہا تھا: مجھے اجازت دیجئیے، میں اس کی گردن مار دوں، بولے: اگر میں تمہیں حکم دے دیتا تو تم اسے کر گزرتے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، ضرور، بولے: نہیں، قسم اللہ کی! محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی آدمی کو بھی یہ مرتبہ حاصل نہیں ۱؎۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: یہ یزید کے الفاظ ہیں، احمد بن حنبل کہتے ہیں: یعنی حضرت ابوبکر ایسا نہیں کر سکتے تھے کہ وہ کسی شخص کو بغیر ان تین باتوں میں سے کسی ایک کے جسے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا ہے قتل کرنے کا حکم دے دیں: ایک ایمان کے بعد کافر ہو جانا دوسرے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرنا، تیسرے بغیر نفس کے کسی نفس کو قتل کرنا، البتہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قتل کر سکتے تھے۔
