Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الأَسْلَمِيِّ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الشَّامَ فَكَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطٌ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّامِ فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْبُرِّ وَالزَّيْتِ سِعْرًا مَعْلُومًا وَأَجَلاً مَعْلُومًا فَقِيلَ لَهُ مِمَّنْ لَهُ ذَلِكَ قَالَ مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ .
English Translation
It is narrated from Hadrat Abdullah ibn Abi Awfa al-Aslami (may Allah be well pleased with him) who said: We went on an expedition to Syria with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). The Nabataean traders of Syria used to come to us, and we would pay them in advance for wheat and olive oil at a known price and for a known period. He was asked: Did you buy from those who possessed the commodity? He said: We did not ask them about that.
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: ہم نے محبوبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شام کی طرف غزوہ کیا تو شام کے نبطی لوگ ہمارے پاس آتے تھے۔ ہم اُن سے گیہوں اور زیتون میں معلوم قیمت اور معلوم مدت پر سلف (ایڈوانس خرید) کرتے تھے۔ اُن سے پوچھا گیا: کیا ایسے لوگوں سے (خریدتے تھے) جن کے پاس وہ چیز موجود تھی؟ فرمایا: ہم اُن سے نہیں پوچھتے تھے۔
