Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي الشَّمْسِ فَسَأَلَ عَنْهُ قَالُوا : هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلاَ يَقْعُدَ، وَلاَ يَسْتَظِلَّ وَلاَ يَتَكَلَّمَ وَيَصُومَ . قَالَ : " مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ، وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ " .
English Translation
Hadrat Abdullah ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrates: While the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was delivering a sermon, he noticed a man standing in the sun. He asked about him. They submitted: This is Abu Isra'il; he has vowed that he will stand and not sit, will not seek shade, will not speak, and will fast. The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Command him to speak, seek shade, and sit down, and let him complete his fast.'
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک ایک شخص دھوپ میں کھڑا نظر آیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے عرض کیا: یہ ابو اسرائیل ہے، اس نے نذر مانی ہے کہ کھڑا رہے گا، بیٹھے گا نہیں، سائے میں نہیں آئے گا، بات نہیں کرے گا، اور روزہ رکھے گا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے کہو بات کرے، سائے میں آئے، بیٹھ جائے، اور اپنا روزہ پورا کرے۔
