Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، ح وَحَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ، عَنْ عَامِرٍ أَبِي رَمْلَةَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ وَنَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَاتٍ قَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَةً وَعَتِيرَةً أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ هَذِهِ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْعَتِيرَةُ مَنْسُوخَةٌ هَذَا خَبَرٌ مَنْسُوخٌ .
English Translation
It is narrated by Hadrat Mikhnaf ibn Sulaym (may Allah be well pleased with him) that we were standing with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) at Arafat. He stated: O people! Upon every household, every year, there is an obligatory sacrifice and an Atirah. Do you know what the Atirah is? It is that which the people call the Rajabiyyah. Abu Dawud (upon him be mercy) said: The Atirah has been abrogated; this report is abrogated.
Urdu Translation
حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ہم عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! ہر گھر والوں پر ہر سال ایک قربانی اور ایک عتیرہ لازم ہے، کیا تم جانتے ہو عتیرہ کیا ہے؟ یہ وہی ہے جسے لوگ رجبیہ کہتے ہیں۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: عتیرہ منسوخ ہے، یہ خبر منسوخ ہے۔
