Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " عَلَيْكُمْ بِكُلِّ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، أَوْ كُمَيْتٍ أَغَرَّ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . قَالَ مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ - سَأَلْتُهُ : لِمَ فَضَّلَ الأَشْقَرَ قَالَ : لأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ سَرِيَّةً فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ جَاءَ بِالْفَتْحِ صَاحِبُ أَشْقَرَ .
English Translation
Hadrat Abu Wahb (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "You should keep every chestnut with a white blaze and white-stockinged legs, or a bay with a white blaze." Then he mentioned the like of it. Muhammad, meaning Ibn Muhajir, said: I asked him why the chestnut was given preference. He said: Because the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sent out an expedition and the first to bring the news of victory was the rider of a chestnut horse.
Urdu Translation
حضرت ابو وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تمہیں ہر سُرخ پیشانی پر سفید نشان والا اور ٹانگوں پر سفید نشان والا، یا سُرخی مائل بھورا سفید نشان والا گھوڑا رکھنا چاہیے۔" پھر اسی طرح بیان کیا۔ محمد یعنی ابن مہاجر فرماتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا کہ سُرخ کو کیوں فضیلت دی گئی؟ انہوں نے کہا: کیونکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا تو سب سے پہلے فتح کی خبر لانے والا سُرخ گھوڑے کا سوار تھا۔
