Arabic (Original)
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ خَرَجَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ إِلَى مَكَّةَ فَقَدِمَ بِابْنَةِ حَمْزَةَ فَقَالَ جَعْفَرٌ أَنَا آخُذُهَا أَنَا أَحَقُّ بِهَا ابْنَةُ عَمِّي وَعِنْدِي خَالَتُهَا وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ . فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أَحَقُّ بِهَا ابْنَةُ عَمِّي وَعِنْدِي ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ أَحَقُّ بِهَا . فَقَالَ زَيْدٌ أَنَا أَحَقُّ بِهَا أَنَا خَرَجْتُ إِلَيْهَا وَسَافَرْتُ وَقَدِمْتُ بِهَا . فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ حَدِيثًا قَالَ " وَأَمَّا الْجَارِيَةُ فَأَقْضِي بِهَا لِجَعْفَرٍ تَكُونُ مَعَ خَالَتِهَا وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ " . .
English Translation
Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) said: Hadrat 'Zayd bin Harithah (may Allah be well pleased with him) went to Makkah and brought the daughter of Hadrat Hamzah (may Allah be well pleased with him) back with him. Hadrat Ja'far (may Allah be well pleased with him) said: "I shall take her; I have more right to her — she is my uncle's daughter and her maternal aunt is my wife. The maternal aunt is like the mother." Hadrat Ali (may Allah ennoble his countenance) said: "I have more right to her — she is my uncle's daughter, and the daughter of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) is my wife; she has more right to her." Hadrat Zayd (may Allah be well pleased with him) submitted: "I have the most right — I went out to her, travelled, and brought her back." The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came out.' (Hadrat Ali mentioned the matter, and) he stated: 'As for the girl, I decree in favour of Ja'far — she shall live with her maternal aunt. The maternal aunt is like the mother.'
Urdu Translation
حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں: حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ گئے تو حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی کو ساتھ لے آئے۔ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں اسے لوں گا، میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے، اور خالہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے۔ حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے فرمایا: میں زیادہ حقدار ہوں، یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی (حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) میرے نکاح میں ہیں، وہ اس کی زیادہ حقدار ہیں۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: میں سب سے زیادہ حقدار ہوں، میں اس کے پاس گیا، سفر کر کے اسے لے آیا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، (حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ذکر کیا) تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رہی لڑکی، تو میرا فیصلہ جعفر کے حق میں ہے، وہ اپنی خالہ کے پاس رہے گی، اور خالہ ماں کے درجے میں ہے۔
