Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَالَ أَلاَ لاَ تُغَالُوا بِصُدُقِ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ لَكَانَ أَوْلاَكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَلاَ أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً .
English Translation
Hadrat Abu al-Ajfa' al-Sulami narrates: Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) addressed us and said: Beware! Do not be excessive in the dowries of women, for if it were a mark of honour in this world or piety before Allah, the most deserving of it would have been the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) did not give any of his pure wives, nor was any of his noble daughters given, a dowry of more than twelve uqiyyahs.
Urdu Translation
حضرت ابو العجفاء سُلمی فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: خبردار! عورتوں کے مہر میں غلو (زیادتی) نہ کرو، کیونکہ اگر یہ دنیا میں بزرگی کی بات ہوتی یا اللہ تعالیٰ کے ہاں تقویٰ ہوتا تو تم سب سے بڑھ کر اس کے مستحق نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہوتے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی کسی بھی زوجہ مطہرہ کو اور نہ آپ کی کسی بھی صاحبزادی کو بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر دیا گیا۔
