Arabic (Original)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى، - وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ وَهُوَ أَتَمُّ - عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْبَعُونَ خَصْلَةً أَعْلاَهُنَّ مَنِيحَةُ الْعَنْزِ مَا يَعْمَلُ رَجُلٌ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا إِلاَّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي حَدِيثِ مُسَدَّدٍ قَالَ حَسَّانُ فَعَدَدْنَا مَا دُونَ مَنِيحَةِ الْعَنْزِ مِنْ رَدِّ السَّلاَمِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ وَنَحْوِهِ فَمَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نَبْلُغَ خَمْسَ عَشْرَةَ خَصْلَةً .
English Translation
It is narrated from Hadrat Abdullah ibn Amr ibn al-'As (may Allah be well pleased with them both) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: There are forty virtuous deeds; the highest of them is to lend a she-goat (for the benefit of its milk). Whoever practises any of these deeds with the hope of reward and belief in the truth of the divine promise, Allah shall admit him to Paradise on its account. Abu Dawud said: In the version of Musaddad, Hassan said: We tried to count the deeds below lending the she-goat, such as returning the greeting of peace, responding to one who sneezes, removing harmful things from the road, and the like, but we could not reach even fifteen.
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چالیس خصلتیں (نیک اعمال) ہیں، ان میں سب سے اعلیٰ بکری کا عطیہ (دودھ کے لیے عاریتاً) دینا ہے، جو کوئی بھی ان خصلتوں میں سے کسی ایک پر ثواب کی امید سے اور (اللہ کے) وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے سبب جنت میں داخل فرمائے گا۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: مسدد کی حدیث میں حسان کہتے ہیں: ہم نے بکری کے عطیے سے نیچے کی خصلتیں گنیں جیسے سلام کا جواب دینا، چھینک آنے والے کو جواب دینا اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا وغیرہ، تو ہم پندرہ خصلتوں تک بھی نہیں پہنچ سکے۔
