العربية (الأصل)
حَدَّثَنِيزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثناعَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنامَعْمَرٌ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنعَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، قَالَ: رَأَيْتُأَبَا هُرَيْرَةَوَهُوَ فَوْقَ الْمَسْجِدِ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مِمَّا أَتَوَضَّأُ؟ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ"، وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يَتَوَضَّأُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ.
الترجمة الإنجليزية
Abdullah ibn Ibrahim ibn Qariz said: I saw Abu Hurayrah on top of the mosque performing ablution. He said: 'Do you know why I am performing ablution? It is because of pieces of dried curd that I ate. I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Perform ablution from that which has been touched by fire."' And al-Zuhri used to perform ablution from that which had been changed by fire.
الترجمة الأردية
عبد بن ابراہیم زہری رحمہ اللہ نے بیان کیا، میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کے اوپر وضو کرتے دیکھا تو انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو میں کیوں وضو کر رہا ہوں؟ میں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے ہیں، میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا آپ فرما رہے تھے”آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو کرو۔“امام زہری رحمہ اللہ آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو فرماتے تھے۔[مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن سعيد بن المسيب/حدیث: 21]
