العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ ثُوَيْرٍ، هُوَ ابْنُ أَبِي فَاخِتَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَخَذَ عَلِيٌّ بِيَدِي قَالَ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْحَسَنِ نَعُودُهُ . فَوَجَدْنَا عِنْدَهُ أَبَا مُوسَى فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَعَائِدًا جِئْتَ يَا أَبَا مُوسَى أَمْ زَائِرًا فَقَالَ لاَ بَلْ عَائِدًا . فَقَالَ عَلِيٌّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا غُدْوَةً إِلاَّ صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِنْ عَادَهُ عَشِيَّةً إِلاَّ صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ مِنْهُمْ مَنْ وَقَفَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ . وَأَبُو فَاخِتَةَ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ عِلاَقَةَ .
الترجمة الإنجليزية
Thuwair [and he is Ibn Abi Fakhitah] narrated that His father said: "Ali took me by the hand and said: 'Come with us to pay a visit to Al-Hasan.' So we found that Hadrat Abu Musa was with him.' Ali - (blessings and peace of Allah be upon him) - said: 'O Hadrat Abu Musa! Did you come to visit (the sick) or merely (stop by to) visit?' He said: 'No, to visit (the sick).' So Hadrat Ali said: 'I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying: "No Muslim visits (the sick) Muslims in the morning, except that sevety-thousand angels, sent Salat upon him until the evening, and he does not visit at night except that seventy thousand angels sent Salat upon him until the morning, and there will be a garden for him in Paradise
الترجمة الأردية
ابوفاختہ سعید بن علاقہ کہتے ہیں کہ علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: ہمارے ساتھ حسن کے پاس چلو ہم ان کی عیادت کریں گے تو ہم نے ان کے پاس حضرت ابوموسیٰ کو پایا۔ تو علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے پوچھا: حضرت ابوموسیٰ کیا آپ عیادت کے لیے آئے ہیں؟ یا زیارت «شماتت» کے لیے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ عیادت کے لیے آیا ہوں۔ اس پر علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو مسلمان بھی کسی مسلمان کی صبح کے وقت عیادت کرتا ہے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اور جو شام کو عیادت کرتا ہے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہو گا“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے یہ حدیث کئی اور بھی طرق سے بھی مروی ہے، ان میں سے بعض نے موقوفاً اور بعض نے مرفوعاً روایت کی ہے۔
