العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، ح قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قِرَاءَةً عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمُ اسْتَحَبُّوا تَعْجِيلَ الْفِطْرِ . وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Sahl bin Sa'd (may Allah be well pleased with him) narrates that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "The people will remain in goodness as long as they hasten in breaking the fast." There are also narrations in this chapter from Hadrat Abu Hurairah, Hadrat Ibn Abbas, the Mother of the Believers Hadrat Aishah, and Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with them). Imam Tirmidhi (upon him be mercy) says: The hadith of Hadrat Sahl bin Sa'd is Hasan Sahih. The Companions (may Allah be well pleased with them) and other scholars chose this practice and considered hastening the breaking of the fast as recommended. Al-Shafi'i, Ahmad, and Ishaq (upon them be mercy) also held this view.
الترجمة الأردية
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک وہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔" اس باب میں حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عباس، حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی روایات ہیں۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور دیگر اہل علم نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے اور افطار میں جلدی کو مستحب سمجھا ہے۔ شافعی، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ تعالیٰ بھی یہی فرماتے ہیں۔
