العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلاَ لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَحُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ هَذَا الْحَدِيثَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ . وَقَدْ رُوِيَ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَحِلُّ الْمَسْأَلَةُ لِغَنِيٍّ وَلاَ لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " . وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ قَوِيًّا مُحْتَاجًا وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ أَجْزَأَ عَنِ الْمُتَصَدِّقِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَوَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى الْمَسْأَلَةِ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abdullah bin Amr (may Allah be well pleased with him) narrated that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Charity is not lawful for the rich nor for the physically fit
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی مالدار کے لیے مانگنا جائز نہیں اور نہ کسی طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے مانگنا جائز ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن ہے، ۲- اور شعبہ نے بھی یہ حدیث اسی سند سے سعد بن ابراہیم سے روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- اس باب میں حضرت ابوہریرہ، حبشی بن جنادہ اور قبیصہ بن مخارق رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اور اس حدیث کے علاوہ میں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ ”کسی مالدار کے لیے مانگنا جائز نہیں اور نہ کسی ہٹے کٹے کے لیے مانگنا جائز ہے“ اور جب آدمی طاقتور و توانا ہو لیکن محتاج ہو اور اس کے پاس کچھ نہ ہو اور اسے صدقہ دیا جائے تو اہل علم کے نزدیک اس دینے والے کی زکاۃ ادا ہو جائے گی۔ بعض اہل علم نے اس حدیث کی توجیہ یہ کی ہے کہ «لا تحل له الصدقة» کا مطلب ہے کہ اس کے لیے مانگنا درست نہیں ہے ۲؎۔
