العربية (الأصل)
وَرَوَاهُ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ فَقَالَ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ وَمَا زِدْتُ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ قَالَ وَالْوُضُوءُ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْغُسْلِ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَرَوَى مَالِكٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ قَالَ بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ الصَّحِيحُ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ أَيْضًا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ نَحْوُ هَذَا الْحَدِيثِ.
الترجمة الإنجليزية
And Yunus and Ma'mar narrated from Az-Zuhri, from Salim, from his father, that while Hadrat Umar bin Al-Khattab (may Allah be well pleased with him) was delivering the Khutbah on Friday, a man from the Companions of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) entered. So Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said: 'What hour is this (why are you so late)?' He said: 'I did not do more than perform Wudu after hearing the Adhan.' Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said: 'Just Wudu as well?! And you know that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ordered the Ghusl (bath).' Abu Isa said: I asked Muhammad (Al-Bukhari) about this and he said: The correct narration is that of Az-Zuhri from Salim from his father. Muhammad said: It has also been reported from Malik from Az-Zuhri from Salim from his father with a similar hadith.
الترجمة الأردية
اور یونس اور معمر نے زہری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی داخل ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ کون سی گھڑی ہے (یعنی اتنی دیر سے کیوں آئے)؟ تو انہوں نے کہا: میں نے بس اذان سنی اور وضو سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: صرف وضو! حالانکہ تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کا حکم دیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: میں نے محمد (بخاری) سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: صحیح روایت زہری کی سالم سے اور سالم کی اپنے والد سے ہے۔ محمد نے کہا: مالک سے بھی زہری سے، سالم سے، ان کے والد سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
