العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، هُوَ السَّالَحِينِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَبِي بَكْرٍ " مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ وَأَنْتَ تَخْفِضُ مِنْ صَوْتِكَ " . فَقَالَ إِنِّي أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ . قَالَ " ارْفَعْ قَلِيلاً " . وَقَالَ لِعُمَرَ " مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَكَ " . قَالَ إِنِّي أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ قَالَ " اخْفِضْ قَلِيلاً " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ هَانِئٍ وَأَنَسٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَأَكْثَرُ النَّاسِ إِنَّمَا رَوَوْا هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ مُرْسَلاً .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Qatadah narrated that The Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said to Hadrat Abu Bakr: "I passed by you while you were reciting and your voice was low." He said: "I let He who, I was consulting hear." He said: "Raise your voice." Then he said to Umar: "I passed by while you were reciting and your voice was loud." So he said: "I repel drowsiness and keep Ash-Shaitan away." So he said: "Lower your voice
الترجمة الأردية
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ”میں ( تہجد کے وقت ) تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز کچھ دھیمی تھی؟“ کہا: میں تو صرف اسے سنا رہا تھا جس سے میں مناجات کر رہا تھا۔ ( یعنی اللہ کو ) آپ نے فرمایا: ”اپنی آواز کچھ بلند کر لیا کرو“، اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ”میں تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز بہت اونچی تھی؟“، کہا: میں سوتوں کو جگاتا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کر لیا کرو“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ، ام ہانی، انس، حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسے یحییٰ بن اسحاق نے حماد بن سلمہ سے مسند کیا ہے اور زیادہ تر لوگوں نے یہ حدیث ثابت سے اور ثابت نے عبداللہ بن رباح سے مرسلاً روایت کی ہے۔ ( یعنی: حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے)
