العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ ابْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ مَوْلاَةً، لَهُ أَتَتْهُ فَقَالَتِ اشْتَدَّ عَلَىَّ الزَّمَانُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الْعِرَاقِ . قَالَ فَهَلاَّ إِلَى الشَّأْمِ أَرْضِ الْمَنْشَرِ اصْبِرِي لَكَاعِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ صَبَرَ عَلَى شِدَّتِهَا وَلأْوَائِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ وَسُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةِ .هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Ibn 'Umar that a freed a slave girl of his came to him, and said: "Times have become hard on me and I want to go to Al-'Iraq." He said: "Why not to Ash-Sham the land of the resurrection? Have patience you foolish lady; I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: 'Whoever endures its hardships and difficulties (Al-Madinah) then I will be a witness, or an intercessor for him on the Day of Judgement." [He said:] There are narrations on this topic from Abu Sa'eed, Sufyan bin Abi Zuhair, and Subai'ah Al-Aslamiyyah
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی ان کے پاس آئی اور ان سے کہنے لگی میں گردش زمانہ کی شکار ہوں اور عراق جانا چاہتی ہوں، تو انہوں نے کہا: تو شام کیوں نہیں چلی جاتی جو حشر و نشر کی سر زمین ہے، ( آپ نے ارشاد فرمایا ) «اصبري لكاع» ! کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اس کی ( مدینہ کی ) سختی اور تنگی معیشت پر صبر کیا تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی ہوں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث عبیداللہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
