العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى فِي بَيْتِ الزُّبَيْرِ مِصْبَاحًا فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ مَا أُرَى أَسْمَاءَ إِلاَّ قَدْ نَفِسَتْ فَلاَ تُسَمُّوهُ حَتَّى أُسَمِّيَهُ " . فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ بِيَدِهِ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Ibn Abi Mulaikah that from Hadrat 'Aishah, that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) saw a lamp in the house of Az-Zubair, so he said: "O Hadrat 'Aishah, I do not think except that Asma has given birth, so do not name him until I should name him." So he named him Hadrat 'Abdullah, and he (performed Tahnik) with a date that was in his hand
الترجمة الأردية
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ( خواب میں ) حضرت زبیر کے گھر میں ایک چراغ دیکھا تو آپ نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: ”عائشہ! میں یہی سمجھا ہوں کہ اسماء کے یہاں ولادت ہونے والی ہے، تو اس کا نام تم لوگ نہ رکھنا، میں رکھوں گا“، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھا، اور اپنے ہاتھ سے ایک کھجور کے ذریعہ ان کی تحنیک کی ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
