العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَأَيْتُ كَأَنِّي أُتِيتُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ فَأَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " . قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْعِلْمَ " .هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Ibn 'Umar that "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'I saw that I was brought a cup of milk, so I drank from it, and I gave my leftover to 'Umar bin Al-Khattab.' They said: 'So what did you interpret it as O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?' He said: '(It is) Knowledge
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا گویا مجھے دودھ کا کوئی پیالہ دیا گیا جس میں سے میں نے کچھ پیا پھر میں نے اپنا بچا ہوا حصہ حضرت عمر بن خطاب کو دے دیا“، تو لوگ کہنے لگے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: ”اس کی تعبیر علم ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
