العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : ( والَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ ) قَالَتْ عَائِشَةُ أَهُمُ الَّذِينَ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَيَسْرِقُونَ قَالَ " لاَ يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ يَصُومُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَهُمْ يَخَافُونَ أَنْ لاَ يُقْبَلَ مِنْهُمْ أُولَئِكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ " . قَالَ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat 'Abdur-Rahman bin [Sa'eed bin] Wahb - that is Al-Hamdani that Hadrat 'Aishah the wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "I asked about the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) about this Ayah: And those who give that which they give with their hearts full of fear... (23:60)" Hadrat 'Aishah said: "Are they those who drink Khamr and steal?" He said: "No, O daughter of As-Siddiq. They are those who fast, perform Salat, give charity while they fear that their Lord will not accept it from them: It is these who hasten to do good deeds, and they are the foremost of them (23:)
الترجمة الأردية
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» ”جو لوگ اللہ کے لیے دیتے ہیں، جو دیتے ہیں اور ان کے دل خوف کھا رہے ہوتے ہیں ( کہ قبول ہو گا یا نہیں ) “ ( المؤمنون: ۶۰ ) ، کا مطلب پوچھا: کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں، اور چوری کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، صدیق کی صاحبزادی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، صدقے دیتے ہیں، اس کے باوجود ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ نیکیاں قبول نہ ہوں، یہی ہیں وہ لوگ جو خیرات ( بھلے کاموں ) میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی لوگ بھلائیوں میں سبقت لے جانے والے لوگ ہیں“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: عبدالرحمٰن بن سعید نے بھی اس حدیث کو ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ سے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
