العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ صَبِيحٍ، وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ رَأَى أَبُو أُمَامَةَ رُءُوسًا مَنْصُوبَةً عَلَى دَرَجِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ " كِلاَبُ النَّارِ شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ " . ثُمَّ قَرَأَ : ( يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ) إِلَى آخِرِ الآيَةِ قُلْتُ لأَبِي أُمَامَةَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلاَّ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا أَوْ أَرْبَعًا حَتَّى عَدَّ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَأَبُو غَالِبٍ يُقَالُ اسْمُهُ حَزَوَّرُ وَأَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ اسْمُهُ صُدَىُّ بْنُ عَجْلاَنَ وَهُوَ سَيِّدُ بَاهِلَةَ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Ghalib that "Hadrat Abu Umamah saw heads (of the Khawarij) hanging on the streets of Damascus. He said: 'The dogs of the Fire and the worst dead people under the canopy of the heavens. The best dead men are those whom these have killed.' He then recited: On the Day when some faces will become white and some faces will become black... (3:106) until the end of the Ayah. I said to Hadrat Abu Umamah: 'Did you hear it from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?' He said: 'If I had not heard it but one time, or two times, or three times, or four times - until he reached seven - I would not have narrated it to you
الترجمة الأردية
ابوغالب کہتے ہیں کہ حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دمشق کی مسجد کی سیڑھیوں پر ( حروراء کے مقتول خوارج کے ) سر لٹکتے ہوئے دیکھے، تو کہا: یہ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے سایہ تلے بدترین مقتول ہیں جب کہ بہترین مقتول وہ ہیں جنہیں انہوں نے قتل کیا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت «يوم تبيض وجوه وتسود وجوه» ۱؎ پڑھی میں نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ کہا: میں نے اسے اگر ایک بار یا دو بار یا تین بار یا چار بار یہاں تک انہوں نے سات بار گنا، نہ سنا ہوتا تو تم لوگوں سے میں اسے نہ بیان کرتا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوغالب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا نام حزور ہے۔ ۳- اور حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام صدی بن عجلان ہے، وہ قبیلہ باہلہ کے سردار تھے۔
