العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ عَمَّارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَأَنَسٍ وَابْنِ أَبِي أَوْفَى وَأَبِي أَيُّوبَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ مَنْصُورٍ يَقُولُ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ لَمْ يَسْمَعْ عَبْدُ الْكَرِيمِ مِنْ حَسَّانَ بْنِ بِلاَلٍ حَدِيثَ التَّخْلِيلِ . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عُثْمَانَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَالَ بِهَذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ رَأَوْا تَخْلِيلَ اللِّحْيَةِ . وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ . وَقَالَ أَحْمَدُ إِنْ سَهَا عَنْ تَخْلِيلِ اللِّحْيَةِ فَهُوَ جَائِزٌ . وَقَالَ إِسْحَاقُ إِنْ تَرَكَهُ نَاسِيًا أَوْ مُتَأَوِّلاً أَجْزَأَهُ وَإِنْ تَرَكَهُ عَامِدًا أَعَادَ .
الترجمة الإنجليزية
(In another narration) Ammar narrated :the same from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)
الترجمة الأردية
اس سند سے بھی عمار بن یاسر سے اوپر ہی کی حدیث کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- اس باب میں حضرت عثمان، حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ، حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ، انس، ابن ابی اوفی اور حضرت ابوایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے زیادہ صحیح حدیث عامر بن شقیق کی ہے، جسے انہوں نے حضرت ابووائل سے اور حضرت ابووائل نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ، ۳- صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں، ان لوگوں کی رائے ہے کہ داڑھی کا خلال ( مسنون ) ہے اور اسی کے قائل شافعی بھی ہیں، احمد کہتے ہیں کہ اگر کوئی داڑھی کا خلال کرنا بھول جائے تو وضو جائز ہو گا، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی بھول کر چھوڑ دے یا خلال والی حدیث کی تاویل کر رہا ہو تو اسے کافی ہو جائے گا اور اگر قصداً جان بوجھ کر چھوڑے تو وہ اسے ( وضو کو ) لوٹائے۔
