العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الأَبَحُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لاَ يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمَّارٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عُمَرَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يُثَبِّتُ حَمَّادَ بْنَ يَحْيَى الأَبَحَّ وَكَانَ يَقُولُ هُوَ مِنْ شُيُوخِنَا .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Anas that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "The parable of my Ummah is that of a rain; it is not known if its beginning is better or its end
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کی مثال بارش کی ہے، نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا اول بہتر ہے یا اس کا آخر“ ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عمار، حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- عبدالرحمٰن بن مہدی سے روایت ہے کہ وہ حماد بن یحییٰ الابح کی تائید و تصدیق کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ہمارے اساتذہ میں سے ہیں۔ فائدہ ۱؎: معلوم ہوا کہ امت کا ہر فرد بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، نہیں معلوم اس میں سے کس کو کب اور کس وقت دوسرے سے خیر و برکت پہنچ جائے۔
