العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،قال حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أَخِي اسْتُطْلِقَ بَطْنُهُ . فَقَالَ " اسْقِهِ عَسَلاً " . فَسَقَاهُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَقَيْتُهُ عَسَلاً فَلَمْ يَزِدْهُ إِلاَّ اسْتِطْلاَقًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اسْقِهِ عَسَلاً " . فَسَقَاهُ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَقَيْتُهُ عَسَلاً فَلَمْ يَزِدْهُ إِلاَّ اسْتِطْلاَقًا . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ, اسْقِهِ عَسَلاً " . فَسَقَاهُ عَسَلاً فَبَرَأَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Sa'eed said: "A man came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and said: 'My brother is suffering from loose bowels.' He said: 'Let him drink Honey.' So he drank it. Then he came and said: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! He has drunk honey, but it has only made him more worse.' So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: ' Let him drink honey.'" He said: "So he drank it. Then he came and submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I gave him some more to drink, but it has only made him more worse.'" He said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Allah has told the truth,and your brother's stomach has lied. Give him honey to drink'. So he gave him some more honey to drink and he was cured
الترجمة الأردية
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: میرے بھائی کو دست آ رہا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے شہد پلاؤ“، چنانچہ اس نے اسے پلایا، پھر آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہو گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے شہد پلاؤ“، اس نے اسے شہد پلایا، پھر آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہو گیا ہے، حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ( اپنے قول میں ) سچا ہے، اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کو شہد پلاؤ“، چنانچہ اس نے شہد پلایا تو ( اس بار ) اچھا ہو گیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
