العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَبِي أَيُّوبَ وَكَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا بَعَثَ إِلَيْهِ بِفَضْلِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ يَوْمًا بِطَعَامٍ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَتَى أَبُو أَيُّوبَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " فِيهِ ثُومٌ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ " لاَ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Jabir bin Samurah that "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was staying with Hadrat Abu Ayyub. When he ate some food, he would send what was left to him. So one day he sent him some food but the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) did not eat from it. So Hadrat Abu Ayyub went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and mentioned that to him. the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'It contained garlic.' So he submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Is it unlawful?' He said: 'No, I dislike it because of its odor.'" He said: This Hadith is Hasan Sahih
الترجمة الأردية
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ( ہجرت کے بعد ) حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر ٹھہرے، آپ جب بھی کھانا کھاتے تو اس کا کچھ حصہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجتے، آپ نے ایک دن ( پورا ) کھانا ( واپس ) بھیجا، اس میں سے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ نہیں کھایا، جب حضرت ابوایوب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”اس میں لہسن ہے؟“، انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن اس کی بو کی وجہ سے میں اسے ناپسند کرتا ہوں“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
