العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ أَرَادُوا أَنْ يَشْتَرُوا جَسَدَ رَجُلٍ مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَأَبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَهُمْ إِيَّاهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَكَمِ وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ أَيْضًا عَنْ الْحَكَمِ و قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ابْنُ أَبِي لَيْلَى لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ و قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى صَدُوقٌ وَلَكِنْ لَا نَعْرِفُ صَحِيحَ حَدِيثِهِ مِنْ سَقِيمِهِ وَلَا أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا وَابْنُ أَبِي لَيْلَى صَدُوقٌ فَقِيهٌ وَرُبَّمَا يَهِمُ فِي الْإِسْنَادِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ فُقَهَاؤُنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شُبْرُمَةَ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with him) narrated that the polytheists wanted to buy the body of one of the polytheists (killed in battle), but the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) refused to sell it to them. Abu Isa said: This is a Hasan Gharib Hadith. We only know it from the hadith of Al-Hakam. Al-Hajjaj bin Artat also narrated it from Al-Hakam. Ahmad bin Hanbal said: Ibn Abi Laila's hadith cannot be used as proof. Muhammad bin Isma'il (Al-Bukhari) said: Ibn Abi Laila is truthful but we cannot distinguish his sound narrations from his weak ones, and I do not narrate anything from him. Ibn Abi Laila is truthful and a jurist but he sometimes errs in the chain of narration.
الترجمة الأردية
عبداللہ بن عبدالرحمٰن ابن ابی الحسین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا: تیر بنانے والے کو جو بناتے وقت ثواب کی نیت رکھتا ہو، تیر انداز کو اور تیر دینے والے کو“، آپ نے فرمایا: ”تیر اندازی کرو اور سواری سیکھو، تمہارا تیر اندازی کرنا میرے نزدیک تمہارے سواری کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، ہر وہ چیز جس سے مسلمان کھیلتا ہے باطل ہے سوائے کمان سے اس کا تیر اندازی کرنا، گھوڑے کو تربیت دینا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ تینوں چیزیں اس کے لیے درست ہیں“۔
