العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَكَمِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرٍو، أَوْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ رَأَى هِلاَلَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلاَ يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلاَ مِنْ أَظْفَارِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالصَّحِيحُ هُوَ عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ قَدْ رَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ نَحْوَ هَذَا . وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ كَانَ يَقُولُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَإِلَى هَذَا الْحَدِيثِ ذَهَبَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ فَقَالُوا لاَ بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَبْعَثُ بِالْهَدْىِ مِنَ الْمَدِينَةِ فَلاَ يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ مِنْهُ الْمُحْرِمُ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Umm Salamah that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Whoever sees the crescent of Dhul-Hijjah, and wants to slaughter a sacrifice he should not take from his hair nor from his nails
الترجمة الأردية
حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو ماہ ذی الحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کرنا چاہتا ہو وہ ( جب تک قربانی نہ کر لے ) اپنا بال اور ناخن نہ کاٹے“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ( عمرو اور عمر میں کے بارے میں ) صحیح عمرو بن مسلم ہے، ان سے محمد بن عمرو بن علقمہ اور کئی لوگوں نے حدیث روایت کی ہے، دوسری سند سے اسی جیسی حدیث سعید بن مسیب سے آئی ہے، سعید بن مسیب حضرت ابوسلمہ سے اور حضرت ابوسلمہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، ۳- بعض اہل علم کا یہی قول ہے، سعید بن مسیب بھی اسی کے قائل ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مسلک بھی اسی حدیث کے موافق ہے، ۴- بعض اہل علم نے اس سلسلے میں رخصت دی ہے، وہ لوگ کہتے ہیں: بال اور ناخن کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے، شافعی کا یہی قول ہے، وہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قربانی کا جانور مدینہ روانہ کرتے تھے اور محرم جن چیزوں سے اجتناب کرتا ہے، آپ ان میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہیں کرتے تھے ۱؎۔
