العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ فِيمَا أَنْزَلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ فَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ وَإِنِّي خَائِفٌ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ فَيَقُولَ قَائِلٌ لاَ نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ أَلاَ وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أَحْصَنَ وَقَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ حَبَلٌ أَوِ اعْتِرَافٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Umar bin Al-Khattab said: "Verily Allah sent Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) with the truth, and he revealed the Book to him. Among what was revealed to him was the Ayah of stoning. So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stoned, and we stoned after him. I fear that time will pass over the people such that someone will say 'We do not see stoning in the Book of Allah.' They will be misguided by leaving an obligation which Allah revealed. Indeed stoning is the retribution for the adulterer if he was married and the evidence has been established, or due to pregnancy, or confession
الترجمة الأردية
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، اور آپ پر کتاب نازل کی، آپ پر جو کچھ نازل کیا گیا اس میں آیت رجم بھی تھی ۱؎، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، ( لیکن ) مجھے اندیشہ ہے کہ جب لوگوں پر زمانہ دراز ہو جائے گا تو کہنے والے کہیں گے: اللہ کی کتاب میں ہم رجم کا حکم نہیں پاتے، ایسے لوگ اللہ کا نازل کردہ ایک فریضہ چھوڑنے کی وجہ سے گمراہ ہو جائیں گے، خبردار! جب زانی شادی شدہ ہو اور گواہ موجود ہوں، یا جس عورت کے ساتھ زنا کیا گیا ہو وہ حاملہ ہو جائے، یا زانی خود اعتراف کر لے تو رجم کرنا واجب ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور کئی سندوں سے یہ حدیث عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آئی ہے، ۳- اس باب میں علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے بھی روایت ہے۔
