العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الأَوْدِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَمَنِ فَلَمَّا سِرْتُ أَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَرُدِدْتُ فَقَالَ " أَتَدْرِي لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ لاَ تُصِيبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْنِي فَإِنَّهُ غُلُولٌ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِهَذَا دَعَوْتُكَ فَامْضِ لِعَمَلِكَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ وَبُرَيْدَةَ وَالْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ مُعَاذٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ دَاوُدَ الأَوْدِيِّ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Mu'adh bin Jabal narrated:"The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) dispatched me to Yemen. When I had left, he sent a message after me, so I returned and he said: 'Do you know why I sent a message to you ? Do not take anything without my permission, for that will be Ghulul, and whoever commits Ghulul, he comes with what he took on the Day of Judgement. This is why I called you, so now go and do your job
الترجمة الأردية
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ( قاضی بنا کر ) یمن بھیجا، جب میں روانہ ہوا تو آپ نے میرے پیچھے ( مجھے بلانے کے لیے ) ایک آدمی کو بھیجا، میں آپ کے پاس واپس آیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں بلانے کے لیے آدمی کیوں بھیجا ہے؟ ( یہ کہنے کے لیے کہ ) تم میری اجازت کے بغیر کوئی چیز نہ لینا، اس لیے کہ وہ خیانت ہے، اور جو شخص خیانت کرے گا قیامت کے دن خیانت کے مال کے ساتھ حاضر ہو گا، یہی بتانے کے لیے میں نے تمہیں بلایا تھا، اب تم اپنے کام پر جاؤ“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے اس طریق سے بروایت ابواسامہ جانتے ہیں جسے انہوں نے داود اودی سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں عدی بن عمیرہ، بریدہ، مستور بن شداد، ابوحمید اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
