العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَلَمَّا سِرْتُ أَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَرُدِدْتُ فَقَالَ أَتَدْرِي لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ لَا تُصِيبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْنِي فَإِنَّهُ غُلُولٌ { وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ } لِهَذَا دَعَوْتُكَ فَامْضِ لِعَمَلِكَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ وَبُرَيْدَةَ وَالْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ مُعَاذٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Mu'adh bin Jabal (may Allah be well pleased with him) narrated: 'The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent me to Yemen. When I set out, he sent after me and I was brought back. He stated: Do you know why I sent for you? Do not take anything without my permission, for that would be Ghulul (misappropriation). And whoever commits Ghulul will come with what he misappropriated on the Day of Resurrection. This is why I called you, so proceed to your work.' In this chapter there are also narrations from Hadrat Adiyy bin Amirah, Hadrat Buraidah, Hadrat Al-Mustawrid bin Shaddad, Hadrat Abu Humaid, and Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them). Abu Isa said: The hadith of Hadrat Mu'adh is Gharib. We only know it from this chain through the narration of Abu Hadrat Usamah from Dawud Al-Awdi.
الترجمة الأردية
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خیبر کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا، جس میں سونے اور جواہرات جڑے ہوئے تھے، میں نے انہیں ( توڑ کر ) جدا جدا کیا تو مجھے اس میں بارہ دینار سے زیادہ ملے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ” ( سونے اور جواہرات جڑے ہوئے ہار ) نہ بیچے جائیں جب تک انہیں جدا جدا نہ کر لیا جائے“۔ اسی طرح مؤلف نے قتیبہ سے اسی سند سے حدیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ چاندی جڑی ہوئی تلوار یا کمر بند یا اسی جیسی دوسرے چیزوں کو درہم سے فروخت کرنا درست نہیں سمجھتے ہیں، جب تک کہ ان سے چاندی الگ نہ کر لی جائے۔ ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے۔
