العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، لَهُ جَارِيَتَانِ أَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا جَارِيَةً وَالأُخْرَى غُلاَمًا أَيَحِلُّ لِلْغُلاَمِ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِالْجَارِيَةِ فَقَالَ لاَ اللِّقَاحُ وَاحِدٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا تَفْسِيرُ لَبَنِ الْفَحْلِ وَهَذَا الأَصْلُ فِي هَذَا الْبَابِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Amr bin Ash-Shariq narrated that Hadrat Ibn Abbas was asked about the case in which a man had two slave girls, one of them suckled a girl and the other suckled a boy, is it lawful for the boy to marry the girl? She said:“No, the semen is the same.”
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کے پاس دو لونڈیاں ہوں، ان میں سے ایک نے ایک لڑکی کو دودھ پلایا ہے اور دوسری نے ایک لڑکے کو۔ تو کیا اس لڑکے کے لیے جائز ہے کہ وہ اس لڑکی سے شادی کرے۔ انہوں نے ( حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ) نے کہا: نہیں۔ اس لیے کہ «لقاح» ایک ہی ہے ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہی اس باب میں اصل ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
