العربية (الأصل)
857 - أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ السَّاكِنُ، كَانَ بِبِلْبِيسَ إِجَازَةً، نا أَبُو بَكْرٍ، أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: هَجَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي خَطْمَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ ذَلِكَ، وَقَالَ: «مَنْ لِي بِهَا؟»فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهَا: أَنَا لَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَانَتْ تَمَّارَةٌ تَبِيعُ التَّمْرَ، قَالَ: فَأَتَاهَا، فَقَالَ لَهَا: هَلْ عِنْدَكِ تَمْرٌ؟ فَقَالَتْ نَعَمْ، فَأَرَتْهُ تَمْرًا، فَقَالَ أَرَدْتُ أَجْوَدَ مِنْ هَذَا، قَالَ: فَدَخَلَتِ التُّرْبَةَ، قَالَ: فَدَخَلَ خَلْفَهَا، فَنَظَرَ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَلَمْ يَرَ إِلَّا خِوَانًا، قَالَ: فَعَلَا بِهِ رَأْسَهَا حَتَّى دَمَغَهَا بِهِ، قَالَ: ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كَفَيْتُكَهَا، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّهُ لَا يَنْتَطِحُ فِيهَا عَنْزَانِ»، فَأَرْسَلَهَا مَثَلًا
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Three supplications are answered without doubt: the supplication of the oppressed, the supplication of the traveler, and the supplication of a parent for their child."
الترجمة الأردية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنی خطمہ کی ایک عورت نے نبیصلی اللہ علیہ وسلمکی ہجو کی، آپ کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو آپ کو سخت غصہ آیا، فرمایا:”میرا اس سے انتقام کون لے گا؟“اس عورت کی قوم کے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس سے آپ کا انتقام لوں گا۔ وہ عورت کھجوریں بیچا کرتی تھی۔ راوی کہتا ہے کہ وہ آدمی اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: کیا تیرے پاس کھجوریں ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ اس نے اسے کھجوریں دکھائیں تو اس آدمی نے کہا: میں ان سے عمدہ کھجوریں چاہتا ہوں۔ وہ (کھجوریں لانے) گھر میں داخل ہوئی تو یہ آدمی بھی اس کے پیچھے ہی داخل ہو گیا، اس نے دائیں بائیں دیکھا تو اسے کھانے کی میز کے سوا کچھ نظر نہ آیا، اس نے وہی اٹھا کر اس کے سر پر دے ماری حتیٰ کہ اس کا بھیجہ باہر نکال دیا۔ پھر نبیصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اسے آپ کی طرف سے کافی ہو گیا ہوں تب نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس میں دو بکریوں کے سر بھی نہیں ٹکرائیں گے۔“یوں آپ نے اس فرمان کو ضرب المثل بنا دیا۔[مسند الشهاب/حدیث: 857]
