العربية (الأصل)
820 - أنا عَلِيُّ بْنُ بَقَاءٍ الشُّرُوطِيُّ، لَفْظًا، أنا أَبُو الْفَتْحِ، مَنْصُورُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّضْرُ بِقِرَاءَتِي عَلَيْهِ، نا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، نا أَبُو بَكْرٍ، أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ الْبَغْدَادِيُّ، نا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَاضِي، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: شَتَمَ رَجُلٌ أَبَا بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ، وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَلَحِقَهُ، فَقَالَ لَهُ: «كَانَ يَشْتُمُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ»، قَالَ: «إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ قَعَدَ الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ»
الترجمة الإنجليزية
Sahl ibn Sa'd (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Deliberation is from Allah, and haste is from Satan."
الترجمة الأردية
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دی جبکہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمبھی تشریف فرما تھے، آپ تعجب کر رہے تھے اور مسکرا رہے تھے جب اس نے زیادہ بدتمیزی کی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی کسی بات کا جواب دے دیا، اس پر نبیصلی اللہ علیہ وسلمناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھ کر آپ کے پاس گئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ مجھے گالیاں دے رہا تھا جبکہ آپ بھی تشریف فرما تھے لیکن جب میں نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو آپ ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بے شک تیرے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو اسے جواب دے رہا تھا لیکن جب تو نے اسے جواب دیا تو شیطان واقع ہو گیا پس میں ایسا نہیں ہوں کہ شیطان کے ساتھ بیٹھوں۔“اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ابوبکر! یہ چیزیں برحق ہیں، انہیں سیکھ لو: جس شخص پر کوئی ظلم و زیادتی کی جائے پھر وہ اس سے چشم پوشی کرے تو اس کے بدلے میں اللہ اسے قوت و نصرت سے نوازتا ہے۔ اور جو شخص تصدیق اور صلہ رحمی کرتے ہوئے عطیہ کا دروازہ کھول دے اللہ اس کے بدلے میں اسے زیادہ عطا فرماتا ہے۔ اور جو شخص کثرت (مال) کی خاطر مانگنے کا دروازہ کھول لے تو اللہ اس کی وجہ سے اسے مزید قلت فرما دیتا ہے۔“[مسند الشهاب/حدیث: 820]
