العربية (الأصل)
450 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الشَّاهِدُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، أبنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ الرَّازِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: أَتَى ابْنُ عُمَرَ ابْنَ مُطِيعٍ زَمَنَ الْفِتْنَةِ فَدَعَا لَهُ بِوِسَادَةَ وَرَحَّبَ بِهِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّمَا أَتَيْتُكَ لِأُخْبِرَكَ بِكَلِمَتَيْنِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ نَزَعَ يَدَهُ مِنَ الطَّاعَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَجَّةٌ، وَمَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً»
الترجمة الإنجليزية
Whoever withdraws his hand from obedience (to the leader) will have no argument on the Day of Judgment; and whoever separates himself from the congregation dies the death of ignorance (jahiliyyah).
الترجمة الأردية
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (واقعہ حرہ کے) فتنے کے دور میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ابن مطیع کے پاس آئے، انہوں نے آپ کے لیے تکیہ منگوایا اور آپ کو مرحبا کہا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تمہارے پاس صرف اس لیے آیا ہوں کہ تمہیں دو ایسی باتیں بتاؤں جنہیں میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا ہے، میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے سنا:”جس نے (امام کی) اطاعت سے اپنا ہاتھ کھینچا روز قیامت اس کے لیے کوئی دلیل و حجت نہیں ہوگی اور جس نے جماعت سے دوری اختیار کی وہ جاہلیت کی موت مرا۔“[مسند الشهاب/حدیث: 450]
